گونڈہ،18؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) ہندویواواہنی کے صدرسنیل سنگھ نے بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جےپی )کو متنبہ کیاہے کہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے اجودھیامیں رام مندرتعمیرنہ ہونے کی صورت میں ان کی تنظیم بی جے پی کومرکزمیں اقتدارسے بے دخل کرنے میں اہم رول اداکرے گی۔
سنیل سنگھ نے یہاں صحافیوں سے کہا کہ ہندؤوں کے عقیدے کا مرکزاجودھیا میں عالیشان رام مندر کی تعمیر 2019سے قبل نہیں کرائی گئی، تو ہندویواواہنی ملک کی سبھی ہندوہم خیال تنظیموں کے ساتھ مل کر لوک سبھا کا انتخابات لڑکربی جےپی کو شکست دے گی۔
انھوں نےکہا کہ بی جےپی ایک موقع پرست پارٹی ہے۔ حالانکہ ہندؤوں کے جذبات سے کھلواڑکرنا اسے اگلے انتخابات میں مہنگا پڑے گا۔ سنیل سنگھ نے کہا کہ ان کےگرویوگی آدتیہ ناتھ بی جےپی کے سیاسی جال میں پھنستے جارہے ہیں ۔ یوگی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال کی میعاد کارکے باوجود یوگی رام مندرکی تعمیر کی بات کرنے کے بجائے اس سے بچتے نظر آرہے ہیں۔
اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی ہندو یوا واہنی بی جے پی پر دباو بنانے کے ارادے سے اس طرح کے بیانات دے رہی ہے یا پھر بی جے پی اور ہندو یوا واہنی کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے؟ بہر حال ہندو یوا واہنی کے ضلع صدر کے بیان کے بعد اب تک کسی بی جے پی لیڈر کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ کیا بی جے پی پر اس بیان کا کوئی اثر ہوتا ہے یا پھر ہندو یواواہنی کی طرف سے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔